حدیث نمبر: 155
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: ((يَا أَبَا أُمَامَةَ! إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ سے فرمایا: ”ابو امامہ! بیشک بعض مومن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔“

وضاحت:
فوائد: … مؤمنوں کے درجے مختلف ہوتے ہیں، کوئی بہت جلدی مطیع ہونے والا اور خیر و بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والا ہوتا ہے، جبکہ بعض دوسرے لوگوں میں اس چیز کی رغبت کم ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَّمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا، پھر بعضے تو ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ (سورۂ فاطر: ۳۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به بقية بن الوليد، وھو ضعيف عند التفرد ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 7655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22655»