الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ باب: مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 154
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُؤْمِنُ مَأْلُوفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَمْأَلُ وَلَا يُؤْلَفُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایسا وجود ہے، جس میں مانوسیت پائی جاتی ہے اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے، جو نہ کسی سے انس کرتا ہے اور نہ اس سے مانوس ہوا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہی معاملہ اساتذہ، ڈاکٹر حضرات اور دوسرے لوگوں کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔