حدیث نمبر: 1533
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ قَدْ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَدًّا إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَرَفَعَ، وَالسُّكُوتُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ يَدْعُو وَيَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تین چیزیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ان پر عمل کرتے تھے، لیکن لوگوں نے ان کو ترک کر دیا ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھ پھیلا کر اٹھاتے تھے اور رکوع کرتے وقت اور اس سے اٹھتے اللہ اکبر کہتے تھے او ر قراءت سے پہلے خاموشی اختیار کرتے، جس میں دعا کرتے اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … قراء ت سے پہلے والی دعا اور فضل کے سوال سے مراد استفتاح کی دعائیں ہیں، جو مختلف صیغوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں، ان میں سے کوئی ایک دعا پڑھی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1533
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، غير سعيد بن سمعان، وھو ثقة، أخرجه ابوداود: 753، والنسائي: 2/ 124، والترمذي: 240 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9608)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9606»