حدیث نمبر: 1525
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَضَرَّعُ وَتَخَشَّعُ وَتَمَسْكَنُ ثّمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ تَقُولُ تَرْفَعَهُمَا إِلَى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ، تَقُولُ يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ … )) فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، ہر دو رکعتوں میں تشہد پڑھے ، عاجزی کرے، خشوع اختیار کرے اورمسکینی کا اظہار کرے، پھر تو اپنے ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھا اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ اپنے چہرے کی طرف کہہ: ا ے میرے رب! اے میرے رب! جو شخص ایسے نہیں کرتا، وہ … ۔ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت بات کہی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال دوران نماز خشوع و خضوع کا اظہار مطلوب ِ شریعت اور روحِ نماز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1525
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن نافع بن العمياء مجھول، قال البخاري في تاريخه : لم يصح حديثه، وقال الدارقطني: ضعيف، أخرجه الترمذي: 385 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1799»