حدیث نمبر: 1523
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ: ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْفِي الرَّابِعَةِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَقَدْ أَجْهَدْتُ نَفْسِي فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ: ((إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قُمْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَٰذَا فَقَدْ أَتْمَمْتَهَا، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَٰذَا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ،ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے مسجد کے کونے میں نماز پڑھی ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، جب اس نے آکر سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس چلا جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا، بالآخر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے حسب استطاعت بہت کوشش کی ہے، تو پھر آپ خود ہی مجھے تعلیم دے دیں اور دکھا دیں کہ میں نماز کیسے پڑھوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر حتی کہ رکوع کی حالت میں تو مطمئن ہوجائے، پھر کھڑا ہو جا حتی کہ قومہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے ،پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجا، پھر اٹھ حتی کہ جلسہ میں مطمئن ہوجائے ، پھر کھڑا ہوجا (اور اپنی نماز جاری رکھ)،جب تو نے اپنی نماز اس (طریقے) پر پوری کی تو (اس کا مطلب ہو گا کہ) تو نے اسے مکمل کرلیا ہے اور تو ان امور میں سے جس جس کی کمی کرتا جائے تو حقیقت میں تو اپنی نماز میں کمی کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ ہی اس شخص کو صحیح نماز کی تعلیم کیوں نہیں دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی سے متصف اور لوگوں کے مزاج کو سمجھنے والے تھے۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی جو صورت اپنائی وہ اس آدمی کے لیے زیادہ مفید تھی، اس طرح سے محافظت اور اہتمام کا زیادہ امکان تھا۔ ان احادیث میں بھی عملی نماز کا ایک جامع سا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ قارئین کو یہ نقطہ ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ مسیء الصلاۃ کی حدیث نماز کے تمام فرائض و واجبات اور سنن و مستحبّات کا احاطہ نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ان امور کا ذکر کیا گیا، جو اس سائل کو سمجھانا ضروری تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18997)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19206»