حدیث نمبر: 1522
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى كَنَحْوٍ مِمَّا صَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ((أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ((إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ وَمَكِّنْ لِرُكُوعِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، وَإِذَا سَجَدْتَّ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

صحابیٔ رسول سیّدنا رفاعہ بن رافع زرقی ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ کے قریب نماز پڑھی، اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ وہ واپس تو چلا گیا، لیکن پہلے کی طرح نماز ادا کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا، آپ نے پھر فرمایا: نماز دوبارہ پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز ادا کروں؟ آپ نے فرمایا: جب تو قبلہ رخ ہوجائے تو اللہ اکبر کہہ، پھر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر اور اس کے بعد جتنا چاہے قرآن پڑھ سکتا ہے، جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ، اپنی کمر کو پھیلا دے اور اپنے رکوع میں پوری طرح مطمئن ہو جا، جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی کمر کو سیدھا کر حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں کی طرف لوٹ آئیں، جب سجدہ کرے تو مکمل اطمینان کے ساتھ سجدہ کر ،پھر جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ جا، پھر اسی طریقے کے مطابق رکوع اور سجدے کیا کر۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے ان الفاظ ((ثُمَّ اِقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اِقْرَأَ بِمَاشِئْتَ)) یعنی: پھر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر اور پھر (قرآن میں سے) جو چاہے۔ سے پتہ چلتا ہے کہ جن روایات میں صرف یہ الفاظ ہیں: پھر (قرآن میں سے) جو آسان لگے اس کی تلاوت کر وہ کسی راوی کا اختصار ہیں، اصل اور تفصیلی روایت میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مزید تلاوت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1522
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 858، 861، والنسائي: 2/ 20، وابن ماجه: 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18995)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19204»