حدیث نمبر: 1521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ: ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَٰذَا فَعَلِّمْنِي، قَالَ: ((إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمِئَنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا او ر فرمایا: واپس جاکر دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس چلا گیا،اس نے تین دفعہ یہی کام کیا، بالآخراس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس سے بہتر ادا نہیں کرسکتا، اس لیے آپ مجھے سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اللہ اکبر کہہ پھر جتنا میسر ہو قرآن کی تلاوت کر، پھر رکوع کر حتی کہ رکوع کی حالت میں مطمئن ہوجائے، پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے، جب( رکوع سے) اٹھو تو کھڑے ہو کر برابر ہو جایا کر، پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے ، پھر (سجدہ سے) اٹھ کر بیٹھ حتی کہ بیٹھنے کی حالت میں مطمئن ہوجا، پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کر۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں مطلق طور پر قرآن مجید تلاوت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سورۂ فاتحہ کی قید نہیں لگائی گئی، اس حدیث کے اگلے طرق پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1521
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 757، 793 ومسلم: 397 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9635)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9633»