الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الصَّلَاةِ باب: نماز کے جامع طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 1514
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ أَشَارَ بِسَبَّابَتِهِ وَوَضَعَ الْإِبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى وَقَبَضَ سَائِرَ أَصَابِعِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) اس میں ہے: سیّدنا وائل بن حجر کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھا،اور اپنے دائیں بازو کواپنی دائیں ران پر رکھا، پھر انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا، انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھا اور باقی ساری انگلیاں بند کرلیں۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین ذہن نشین کر لیں کہ سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے، یہ اگلے سال سردی کے موسم میں دوبارہ تشریف لائے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری موسم سردا تھا۔ (دیکھئے: عمدۃ القاری: ۵/ ۲۷۴، صحیح ابن حبان: ۳/ ۱۶۹) انھوں نے دونوں موقعوں پر رفع الیدین کی حدیث بیان کی۔ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا بے بنیاد دعوی کرنے والے متنبہ رہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۱۰ ھ میں رفع الیدین کرنے کی دلیل موجود ہے اور گیارہویں سن ہجری کے تیسرے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔