الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الصَّلَاةِ باب: نماز کے جامع طریقے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَةُ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ) فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكَبَيْهِ) ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً (وَفِي رِوَايَةٍ: حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمُ الثِّيَابُ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنَ الْبَرْدِسیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ پس میں نے دیکھاکہ آپ کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہوئے، اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ کانوں تک یا کندھوں تک اٹھائے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹ اور بازو پر رکھا، جب آ پ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اسی طرح رفع الیدین کیا، رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے ، (رکوع سے) سر اٹھاتے وقت اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر سجدہ کیااور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا، جب آپ بیٹھے تو بایاں پاؤں بچھا لیا اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کے کنارے کو دائیں ران پر کیا، پھر (دائیں ہاتھ کی) انگلیاں اس طرح بند کیں کہ انگوٹھے اوردرمیانی انگلی کا حلقہ بنا لیا اور شہادت کی انگلی کو اٹھا کر اس سے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ اس انگلی کو حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں ایسے زمانے میں آیا جس میں سردی تھی، میں نے دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے اور سردی کی وجہ سے ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔
اس کی دلیل بیان نہیں کی گئی۔ اصل یہ ہے کہ نماز کا جو کام و عمل قابلِ حجت حدیث سے ثابت ہو جائے اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس پر ترغیب کا اہتمام بھی۔ (عبداللہ رفیق)