حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَةُ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ) فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكَبَيْهِ) ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً (وَفِي رِوَايَةٍ: حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمُ الثِّيَابُ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنَ الْبَرْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ پس میں نے دیکھاکہ آپ کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہوئے، اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ کانوں تک یا کندھوں تک اٹھائے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹ اور بازو پر رکھا، جب آ پ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اسی طرح رفع الیدین کیا، رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے ، (رکوع سے) سر اٹھاتے وقت اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر سجدہ کیااور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا، جب آپ بیٹھے تو بایاں پاؤں بچھا لیا اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کے کنارے کو دائیں ران پر کیا، پھر (دائیں ہاتھ کی) انگلیاں اس طرح بند کیں کہ انگوٹھے اوردرمیانی انگلی کا حلقہ بنا لیا اور شہادت کی انگلی کو اٹھا کر اس سے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ اس انگلی کو حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں ایسے زمانے میں آیا جس میں سردی تھی، میں نے دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے اور سردی کی وجہ سے ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی (۸۸۹) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((وَحَلَقَ حَلْقَۃً ثُمَّ رَفَعَ اِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُھَایَدْعُوْ بِھَا۔)) یعنی: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلقہ بناکر انگلی کو اٹھایا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دعا کر رہے تھے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس جملے سمیت مکمل حدیث کو صحیح کہا اور یہی بات راجح ہے۔ بہرحال تشہد کے دروان انگشت ِ شہادت کو حرکت نہ دینا اور صرف اٹھا کر رکھنا بھی درست ہے۔
اس کی دلیل بیان نہیں کی گئی۔ اصل یہ ہے کہ نماز کا جو کام و عمل قابلِ حجت حدیث سے ثابت ہو جائے اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس پر ترغیب کا اہتمام بھی۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: فرأيتهيحركھايدعو بھا فھو شاذ انفرد به زائدة بن قدامة من بين اصحاب عاصم بن كليب ، أخرجه مسلم مختصرا: 401، وأخرجه ابوداود: 727، والنسائي: 2/126 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18866، 18870)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19076»