حدیث نمبر: 1511
عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَلَا أَرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قاسم کہتے ہیں: ہم عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں ؟ ہم نے جواب دیا:کیوں نہیں، قاسم کہتے ہیں: پس انہوں نے کھڑے ہوکر اللہ اکبر کہا، پھر قرا ءت کرکے جب رکوع کیا تواپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے (اور اتنی دیر ٹھہرے کہ) ہر عضو اپنی جگہ پر مطمئن ہو گیا، پھر (رکوع سے) اٹھے (اور اتنی دیر قومہ کیا کہ) ہر عضو نے اپنی جگہ پر قرار پکڑ لیا، پھر سجدہ کیا حتی کہ ہرعضو اپنی جگہ پر پرسکون ہو گیا، پھر ( سجدہ سے) اٹھے، پھردوسری رکعت میں ویسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسے ہی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … مطمئن ہونے، قرار پکڑنے اور پرسکون ہونے سے مراد یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کو ادا کیا جائے اور جلدی نہ کی جائے۔ آجکل اکثر نمازیوں کی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1511
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 5/ 174، وفي الباب احاديث اخري ثابتة۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15371)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15445»