حدیث نمبر: 1510
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز، تکبیر سے اور قراءت {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} سے شروع کرتے تھے، جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ زیادہ اٹھاتے اور نہ زیادہ جھکاتے، بلکہ اس کے درمیان رکھتے، جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کھڑے ہوکر سیدھا ہو جانے تک سجدہ نہ کرتے، جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر برابر ہونے تک (دوسرا) سجدہ نہ کرتے، ہر دو رکعتوں کے بعد اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہ … پڑھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ کوئی (دوران سجدہ) درندے کی طرح بازو بچھائے،جب آپ بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا دیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت کا بیان ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ اس صورت سے معلوم ہوا کہ دوسجدوںکے درمیان بیٹھنے کے دو طریقے ہیں: (۱) دائیاں پاؤں کھڑا رکھنا اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور (۲) دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا، اسی صورت کو اقعاء کہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپناتے ہوئے مختلف اوقات میں دونوں طریقوں پر عمل کیا کریں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی سنت رہ نہ جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1510
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 498 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030، 25617)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26135»