حدیث نمبر: 151
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”کیا میں تم کو مومن کے بارے میں نہ بتلا دوں، مومن وہ ہے کہ لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں جس سے امن میں رہیں، مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ حقیقی ایمان، جہاد اور ہجرت کے تقاضے ہیں، دورِ حاضر کے مسلمان ان ہدایات سے محروم ہیں، دوسروں کی پریشانیاں ان کو پریشان نہیں کرتیں اور دوسروں کی خوشیوں سے ان کے نفسوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 151
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24458»