حدیث نمبر: 15
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ عَلَى أَعْلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں وہ چیزیں سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے اور اسے یہی زیب دیتا ہے کہ وہ آواز نکالے، کیونکہ اس میں ہر چار انگشت کے بقدر جگہ پر فرشتہ سجدہ کیے ہوئے ہے، اگر تم کو ان امور کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور تم بستروں پر اپنی بیویوں سے لذتیں حاصل کرنا ترک کر دو، بلکہ تم (ویران) راستوں (اور صحراؤں) کی طرف نکل جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑا سکو۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر کہا (ظاہر ہے کہ ابو ذر کے شاگرد ان کے بارے یہ بیان کر رہے ہیں): اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی کائنات کے حقائق کا مشاہدہ کر لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی اور عظمت و جلال کا اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کس قدر عظیم ذات ہے، اس کے بعد وہ اس کی عبادت کرنے کے لیے زندگیاں فنا کر دے گا، لیکن یہی سمجھتا رہے گا کہ حق ادا نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے یہ استدلال درست نہ ہوگا کہ ترکِ دنیا کر کے آدمی ویرانوں اور جنگلوں کی طرف نکل سکتا ہے کیونکہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کوئی امتی کائنات کے مشاہدات کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 15
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 4190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21848»