الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ باب: مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 148
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ كَرِيمٌ وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِيمٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بھولا بھالا اور بزرگی والا ہوتا ہے اور فاجر آدمی مکار، (دغاباز) اور کمینہ (اور رذیل) ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ابوجعفر طحاویؒ نے کہا: عرب لوگ اس شخص کو غِرّ کہتے ہیں، جس میں فتنہ و فساد اور مکاری و چالاکی جیسا کوئی وصف نہ پایا جائے، اس کا ظاہر و باطن ایک ہو۔ ظاہر ہے کہ جو آدمی ایسے اوصاف سے متصف ہو گا، دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے امن میں رہیں گے اور یہی مومنوں کی صفات ہیں۔ جبکہ فاجر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے، جس کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہو، کیونکہ ایسے آدمی کا باطن مکروہ ہوتا ہے اور اس کا ظاہر باطن کے مخالف ہوتا ہے، یعنی وہ منافق کی طرح ہوتا ہے جو بظاہر ایسی چیز سے متصف ہوتا ہے، جو پسندیدہ ہوتی ہے اور وہ اسلام ہے، جس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اس کے باطن میں اسلام کی مخالفت ہوتی ہے، یعنی کفر، جس کی مسلمان مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ حدیث ِ مبارکہ میں مومن اور فاجر کے مابین پیش کئے گئے موازنہ کو سمجھیں اور مومن والی صفات سے متصف رہنے اور فاجر والی صفات سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ مومن کے بھولا بھالا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مکرو فریب، افترا و کذب، ابن الوقتی اور ظاہرو باطن میں پائے جانے والے فرق سے پاک ہوتا ہے، کسی کی عیب جوئی نہیں کرتا اور نہ کسی کی ٹوہ اور جاسوسی میں رہتا ہے، وہ مستقل مزاج ہوتا ہے اور وقت کی تیز ہوائیں اس کے رخ کو بدلنے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ سمجھدار یا دور اندیش نہیں ہوتا۔