حدیث نمبر: 147
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ، الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں مومنوں کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک میں نہ پڑے اور اللہ کے راستے میں مال و جان سے جہاد کیا، (۲) وہ آدمی کہ جس کے بارے میں دوسرے لوگوں کو اپنے مالوں اور جانوں پر امن رہتا ہے اور (۳) پھر وہ آدمی جو حرص پر جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اسے ترک کر دیتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … بہرحال مومن کو طمع اور حرص سے محفوظ رہ کر اعمالِ صالحہ کے ذریعے بلندیٔ درجات کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 147
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد المصري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11065»