حدیث نمبر: 142
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا، فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فَقَالَ: طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ! لَوَدِدْنَا أَنَّنَا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ يَكُونُ فِيهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ، وَاللَّهِ! لَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بَعَثَ عَلَيْهَا نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ وَأَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقِرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم ایک دن سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی کا گزر ہوا اور اس نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہا: ”خوشخبری ہے ان دو آنکھوں کے لیے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا، اللہ کی قسم! ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم نے بھی وہ کچھ دیکھا ہوتا جو تم نے دیکھا اور ہم نے بھی ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہوتا، جن کا تم نے مشاہدہ کیا۔“ یہ سن کر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، مجھے بڑا تعجب ہونے لگا کہ اس بندے نے بات تو خیر والی ہی کی تھی، اتنے میں وہ اس پر متوجہ ہو کر کہنے لگے: ”کون سی چیز بندے کو اس خیال پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ ایسی جگہ پر حاضر ہوا ہوتا، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غائب رکھا، وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس مقام پر موجود ہوتا تو اس کی کیفیت کیا ہوتی، اللہ کی قسم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو نتھنوں کے بل جہنم میں گرا دیا، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو قبول نہیں کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہیں کی تھی، کیا تم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کرتے کہ جب اس نے تم کو پیدا کیا تو تمہاری حالت یہ تھی کہ صرف اپنے رب کو پہچانتے تھے اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے تھے، تم سے پہلے والے لوگوں نے تمہیں آزمائشوں سے کفایت کیا۔ اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تھا تو اس وقت بڑے سخت حالات تھے، فترت اور جاہلیت کا ایسا دور تھا کہ جس میں مشرک لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بت پرستی والا دین سب سے بہتر ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرقان لے کر آئے، جس نے حق و باطل کے مابین فرق کیا اور باپ اور اس کی اولاد میں اس طرح فرق کیا کہ ایک آدمی دیکھ رہا ہوتا کہ اس کے والدین، اولاد اور بھائی کافر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا تالہ ایمان کے لیے کھول دیا ہے، اس کو یہ علم ہو جاتا تھا کہ اگر وہ اس دین کو قبول کیے بغیر مر گیا تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا اور اس طرح اس کی آنکھ کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو گی، جب کہ اسے یہ سمجھ ہوتی تھی کہ اس کا پیارا جہنم میں جا رہا ہے، یہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ» (اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔) (سورۂ فرقان: ۷۴)“

وضاحت:
فوائد: … طُوْبٰی کے مزید معانی: جنت، جنت کی ہر خوشگوار چیز، بقائے لازوال، ابدی عزت، سرمدی دولت، جنت کا ایک درخت، سعادت، خیر و بھلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر معنی دوسرے تمام معانی کو مستلزم ہے۔ذہن نشین کر لیں کہ اس امت میں کلی اعتبار سے صحابۂ کرام ہی افضل ہیں، جو شرف اور سعاد ت ان کے نصیبے میں آئی، وہ اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اس مقام پر اس موضوع سے متعلقہ شرعی نصوص کا احاطہ کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے بغیر آپ پرایمان لاناایسی جزوی فضیلت ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والوں کی ان لوگوں پر برتری بیان کی گئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ایمان لائے، لیکن یہ فضیلت جزوی ہے، کلی نہیں ہے۔درج ذیل حدیث میں اس خصوصیت کی وجہ بیان کی گئی ہے: ایک مقام پر دس صحابہ کرام جمع تھے، انھوں نے کہا: ((یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ مِنْ قَوْمٍ ھُمْ اَعْظَمُ مِنَّا اَجْرًا، آمَنَّا بِکَ وَاتَّبَعْنَاکَ؟ قَالَ: ((مَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذَالِکَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ یَأْتِیْکُمْ بِالْوَحْیِ مِنَ السَّمَائِ؟ بَلْ قَوْمٌ یَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَأْتِیْھِمْ کِتَابٌ بَیْنَ لَوْحَیْنِ، یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَعْمَلُوْنَ بِمَا فِیْہِ، اُولٰئِکَ اَعْظَمُ مِنْکُمْ اَجْرًا)) … اے اللہ کے رسول! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اجر و ثواب میں ہم سے بڑھ کر ہوں، ہم تو آپ پر (براہِ راست) ایمان لائے ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بھلا (تم ایمان کیوں نہ لاتے) کون سی چیز تمھارے راستے میں روڑے اٹکا سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے اندر موجود ہیں، (تمھارے سامنے) آسمان سے ان پر وحی نازل ہوتی ہے؟ (اجر و ثواب میں افضل لوگ) وہ ہیں جو تمھارے بعد آئیں گے، انھیں (یہ قرآن مجید) دو گتوں میں موصول ہو گا، وہ اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں گے (حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا ہو گا نہ قرآن مجید کو نازل ہوتے ہوئے)، یہ لوگ اجر و ثواب میں تم سے افضل و اعلی ہوں گے۔ (معجم طبرانی کبیر: ۱/ ۱۷۴/ ۱، مسند ابو یعلی: ۳/ ۱۲۸، صحیحہ: ۳۳۱۰)
صحابہ کرام کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی کئی علامتیں موجود تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کی کیفیت کو دیکھ رہے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکات کا عملی ظہور ان کے سامنے تھا، علی ہذا القیاس، اس لیے ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا جائے، جبکہ بعد میں ایمان لانے والوں کی بنیاد کتابوں میں لکھے ہوئے الفاظ تھے یا لوگوں سے سنے ہوئے۔
ان احادیث میں صحابہ کے بعد والے مسلمانوں کی افضلیت کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم لوگ اس حدیث کا مصداق بنتے ہیں کہ ہمارے پاس قبولیت ِ ایمان کے لیے کوئی ایسی نشانی موجود نہ تھی، جو انبیا ورسل اور ان کے براہِ راست پیروکاروں کے پاس ہوتی تھی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس اعزاز کی وجہ سے ہمیں ثابت قدمی اختیار کرتے ہوئے اعمال صالحہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت پا سکیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه البخاري في الادب المفرد : 87، وابن حبان: 6552، والطبراني في الكبير : 20/ 600 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24311»