الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْإِيْمَانِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ رَاكِبَانِ فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ: ((كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ)) حَتَّى أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ، قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ مَا ذَا لَهُ؟ قَالَ: ((طُوبَى لَهُ)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ قَالَ: ((طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَسیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔“ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے خوشخبری ہے۔“ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔“ پھر اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔