حدیث نمبر: 14
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟“

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمینوں کو، ایک انگلی پر پہاڑوں کو، ایک انگلی پر باقی مخلوقات کو اور ایک انگلی پر درختوں کو اٹھا لے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں اور یہ آیت پڑھی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ … } … لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی، جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ (مسند احمد: ۴۰۸۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 14
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6519، ومسلم: 2787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8850»