حدیث نمبر: 138
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي)) قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ إِخْوَانُكَ، قَالَ: ((أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو ملوں۔“ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم آپ کے بھائی ہی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو میرے ساتھی ہو، میرے بھائی تو وہ ہیں، جو بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔“

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت والے دن ان لوگوں کو ملیں، جو بِن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے، نیز اس حدیث میں صحابہ کرام کی زائد خوبی بھی بیان کی جا رہی ہے کہ اُن کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 3390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12607»