الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي الْإِيْمَانِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمْعَةَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا، تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ، قَالَ: ((نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي))ابو محیریز رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی ابو جمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو،“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، میں تم لوگوں کو بڑی عمدہ حدیث بیان کرتا ہوں، ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھایا، ہمارے ساتھ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہو سکتا ہے؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، وہ لوگ بہتر ہیں، جو تمہارے بعد آئیں گے اور بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔“