الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
رُؤْيَةُ الْمُؤْمِنِينَ رَبَّهُمْ عَزَّوَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ أَعْظَمُ نِعْمَةٍ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ بِهَا ، لا أَحْرَمَنَا اللهُ مِنْهَا، وَفِيهَا أَيْضًا تَلْخِيْصُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ يَوْمِ الْمَوْقِفِ إِلَى ذَبْحِ الْمَوْتِ باب: اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ”هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نَصْفَ النَّهَارِ?“ قَالُوا: لَا قَالَ: ”فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ?“ قَالُوا: لَا قَالَ: ”فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ“ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا تُضَارُّونَ يَقُولُ: لَا تُمَارُونَسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب اپنے ربّ تعالیٰ کا دیدار کرو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں بھی تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی، مگر اسی طرح کہ جتنی سورج اور چاند کو دیکھتے وقت دقت پیش آتی ہے۔ اعمش نے لا تضارون کا معنی لا تمارون کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہوئے دھکم پیل نہیں ہوگی۔