حدیث نمبر: 13337
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَى أَنْ ذَكَرَ الصِّرَاطَ فَقَالَ: ”وَيُوْضَعُ الصِّرَاطُ فَهُمْ عَلَيْهِ مِثْلُ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ: سَلِّمْ سَلِّمْ وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلِ امْتَلَأْتِ؟ وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلِ امْتَلَأْتِ؟ وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى إِذَا أُوْعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ قَدَمَهُ فِيهَا وَزَوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَتْ: قَطْ قَطْ قَطْ وَإِذَا صَيَّرَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا فَيُوْقَفُ عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ أَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَلِأَهْلِ النَّارِ: تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ: قَدْ عَرَفْنَاهُ هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وَكَّلَ بِنَا فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: پھر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، لوگ اس کے اوپر سے بہترین گھوڑوں اور سواروں کی رفتار سے گزریں گے اور صورتحال یہ ہو گی کہ انبیاء ورسل بھی خوف کے مارے کہہ رہے ہوں گے: بچانا، محفوظ رکھنا، جہنمی لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کی ایک فوج کو جہنم میں ڈال کر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی: کیا مزید لوگ ہیں، اس کے بعد پھر ایک گروہ کو اس میں پھینکا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا: کیا اب تو بھر گئی ہے؟ وہ کہے گی: مزید لاؤ، یہاں تک کہ جب سب جہنمی جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے اور وہ مزید لوگوں کو اپنے اندر ڈالے جانے کا مطالبہ کر رہی ہو گی تو آخرمیں اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس،بس، بس۔ جب تمام جنتی لوگ جنت میں اور تمام جہنمی لوگ جہنم میں پہنچ جائیں گے تو جنت اور جہنم کے درمیان والی دیوار پر موت کو لا کر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر یوں آواز دی جائے گی: او جنتیو! وہ خوف زدہ ہو کر ادھر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: او جہنمیو! وہ خوش ہو کر اور جہنم سے رہائی کی امید لے کر ادھر دیکھیں گے،پھر اہل جنت اور اہل جہنم دونوں سے کہا جائے گا: کیا تم اس چیز کو جانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے:جی ہم اسے جانتے ہیں، یہ و ہ موت ہے، جو ہمارے اوپر مسلط کی گئی تھی، پھر اسے لٹا کر اسی دیوار کے اوپر ذبح کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: جنتیو!اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس جنت میں رہو گے، تم میں سے کسی پر موت نہیں آئے گی اور جہنمیو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی میں رہو گے، تم میں سے کسی کو بھی موت نہیں آئے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8803»