حدیث نمبر: 13335
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يُنَادِي مُنَادٍ: أَنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُونَ أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُونَ أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا وَلَا تَهْرَمُونَ وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا وَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الأعراف: 43]“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں،تم تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، تم ہمیشہ خوشحال رہو گے، کبھی بدحال نہیں ہو گے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم ہے: { وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (اور اعلان کر کے ان سے کہاجائے گا کہ تمہیں تمہارے اعمال کے نتیجے میں اس جنت کا وارث بنایا گیا)۔

وضاحت:
فوائد: … جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں جا پہنچیں گے اور اہل ِ شفاعت کی شفاعتوں کے بعد اور اپنے جرائم کی سزا پانے کے بعد جہنم سے رہائی اور نجات پانے والے جب رہا ہو کر اور نجات پاکر جنت میں چلے جائیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیان صراط کے اوپر ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ جو لوگ جنت میں ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کسی پر موت نہیں آئے گی، اسی طرح جو لوگ جہنم میں ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے او ر کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اس اعلان سے اہل ِ جنت کی خوشیوں میں اضافہ ہوجائے گا اور اہل جہنم ِ مزید غمگین اور مایوس ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13335
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2837 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11927»