الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
ذَبْحُ الْمَوْتِ وَجُلُودُ أَهْلِ النَّارِ فِيهَا وَجُلُودُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيهَا باب: موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يُنَادِي مُنَادٍ: أَنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُونَ أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُونَ أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا وَلَا تَهْرَمُونَ وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا وَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الأعراف: 43]“سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں،تم تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، تم ہمیشہ خوشحال رہو گے، کبھی بدحال نہیں ہو گے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم ہے: { وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (اور اعلان کر کے ان سے کہاجائے گا کہ تمہیں تمہارے اعمال کے نتیجے میں اس جنت کا وارث بنایا گیا)۔