الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
ذَبْحُ الْمَوْتِ وَجُلُودُ أَهْلِ النَّارِ فِيهَا وَجُلُودُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيهَا باب: موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ فِيهِ وَيَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ فِيهِ“ قَالَ: وَذَكَرَ بِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ مِثْلَهُ عَنْ جَابِرٍ وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْهُمَا أَنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الشَّفَاعَاتِ وَمَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جب اہل ِ جنت بہشت میں اور اہل ِ جہنم دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، یہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، اس میں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ ابوزبیر بھی جابر اور عبید بن عمیر سے اس قسم کی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن وہ بھی بیان کرتے ہیں کہ موت کے ذبح ہونے کا یہ وقوعہ اس وقت پیش آئے گا، جب سفارشیں ہو چکی ہوں گی اور عارضی طور پر جہنم میں جانے والے جہنم سے باہر آ چکے ہوں گے۔