الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
ذَبْحُ الْمَوْتِ وَجُلُودُ أَهْلِ النَّارِ فِيهَا وَجُلُودُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيهَا باب: موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ فَيُوْقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ: وَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ“ قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ} [مَرْيَم: 39] قَالَ: وَأَشَارَ بِيَدِهِسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل ِ جنت، جنت میں اور اہل ِ جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ایک سیاہ مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیا ن کھڑا کر دیا جائے گا، پھر آواز دی جائے گی: اے جنت والو! … سابقہ حدیث کی مانند ہے … ، مزید اس میں ہے: پھر موت کو ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی اور اے جہنم والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ} (اور آپ ان کو حسرت والے دن سے ڈرائیں، جب سارے امور چکا دیئے جائیں گے اور یہ اس وقت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔