حدیث نمبر: 13327
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ فَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ قَالَ ”يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَرْكَبَ فَرَسًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ تَطِيرُ بِذَكَ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شِئْتَ إِلَّا رَكِبْتَ“ وَأَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي الْجَنَّةِ إِبِلٌ قَالَ ”يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ كَانَ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑے پسند ہیں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے،تو جب تو چاہے گا کہ سرخ رنگ کے یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو، جو تجھے تیری مرضی کے مطابق جنت میں لے کر اڑے، تو تو سوار ہو جائے گا۔ ایک اور آدمی نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندے! اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کر دے تو تیرے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جو تو چاہے گا اور تیری آنکھ پسند کرے گی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَتَی النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّيْ اُحِبُّ الْخَیْلَ، اَفِيْالْجَنَّۃِ خَیْلٌ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنْ اُدْخِلْتَ الْجَنَّۃَ، اُتِیْتَ بِفَرَسٍ مِنْ یَاقُوْتَۃٍ لَہٗ جَنَاحَانَ، فَحُمِلْتَ عَلَیْہِ، ثُمَّ طَارَبِکَ حَیْثُ شِئْتَ۔)) … ایک بدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں گھوڑے پسند کرتا ہوں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے جنت میں داخل کر دیا جائے گا تو تیرے پاس یاقوت کا گھوڑا لایا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے، تجھے اس پر سوار کیا جائے گا اور جہاں تو چاہے گا وہ پرواز کر کے تجھے وہیں لے جائے گا۔ (ترمذی: ۲۵۴۷، صحیحہ:۳۰۰۱)
واقعی کسی انسان کا دماغ یہ تصوّر ہی نہیں کر سکتا ہے کہ جنت میں پائے جانے والی نعمتوں کی ایسی ویسی کیفیت و نوعیت ہو گی۔ خون اور گوشت سے مرکب گھوڑے تو ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن جنت کا گھوڑا یاقوت کا ہو گا اور حیرانی کی بات ہے کہ اس کے دو پر بھی ہوں گے، جن کے ذریعے وہ پرواز کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13327
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف، عبد الرحمن المسعودي اختلط باخره، وكل من روي عنه ھذا الحديث ممن روي عنه بعد الاختلاط، ثم فيه علة اخري، وھي الاختلاف في اسناده علي علقمة بن مرثد، أخرجه الترمذي: 2543 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23370»