الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
مَنِ اشْتَهى شَيْئًا فِي الْجَنَّةِ وَجَدَهُ، قَالَ تَعَالَى: «وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ» باب: جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ فَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ قَالَ ”يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَرْكَبَ فَرَسًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ تَطِيرُ بِذَكَ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شِئْتَ إِلَّا رَكِبْتَ“ وَأَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي الْجَنَّةِ إِبِلٌ قَالَ ”يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ كَانَ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ“سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑے پسند ہیں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے،تو جب تو چاہے گا کہ سرخ رنگ کے یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو، جو تجھے تیری مرضی کے مطابق جنت میں لے کر اڑے، تو تو سوار ہو جائے گا۔ ایک اور آدمی نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندے! اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کر دے تو تیرے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جو تو چاہے گا اور تیری آنکھ پسند کرے گی۔
واقعی کسی انسان کا دماغ یہ تصوّر ہی نہیں کر سکتا ہے کہ جنت میں پائے جانے والی نعمتوں کی ایسی ویسی کیفیت و نوعیت ہو گی۔ خون اور گوشت سے مرکب گھوڑے تو ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن جنت کا گھوڑا یاقوت کا ہو گا اور حیرانی کی بات ہے کہ اس کے دو پر بھی ہوں گے، جن کے ذریعے وہ پرواز کرے گا۔