حدیث نمبر: 13326
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عُلَوِيٌّ جَرِيءٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنِ الْهِجْرَةِ إِلَيْكَ أَيْنَمَا كُنْتَ أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةٍ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ يَسِيرًا ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ قَالَ هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ثُمَّ أَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضَرِ“ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ابْتِدَاءً مِنْ نَفْسِهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَلْقًا تُخْلَقُ أَمْ نَسْجًا تُنْسَجُ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مِمَّ تَضْحَكُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا“ ثُمَّ أَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ قَالَ هُوَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا بَلْ تَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک علوی اور جرأت مند بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی طرف ہجرت کے متعلق بتلائیں کہ آیا ہجرت اُدھر ہی کی جاسکتی ہے، جہاں آپ تشریف فرما ہوں یا ہجرت کا کسی مخصوص قوم کے ساتھ ہی تعلق ہے کہ وہی قوم ہجرت کر سکتی ہے یا ہجرت کا تعلق کسی مخصوص زمین کے ساتھ ہے یا جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ہجرت تو یہی ہے کہ تو ظاہری اور باطنی گناہ کو اور برائی کو ترک کر دے، اور نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر، بس پھر تو صحیح معنوں میں مہاجر ہوگا، خواہ تجھے تیرے اپنے شہر میں ہی موت آ جائے۔ بعد ازاں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے شروع کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں آگاہ فرمائیں کہ اسے الگ سے پیدا کیا جائے گا یا اس کو بُنا جائے گا؟ اس کا سوال سن کر بعض لوگ ہنس پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کیوں ہنس رہے ہوکہ ایک بے علم نے ایک علم والے سے ایک مسئلہ پوچھا ہے؟ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر جھکا لیا اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی یہ میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے جنت کے پھل نکلتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس فصل میں بعض ایسے اہم امور کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر عمل کرنے والے لوگ جنتی ہوں گے: (۱) ایسا حکمران جو عادل ہو، سچ بولتا ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر دل وجان سے یقین رکھتا ہو۔
(۲) ایسا آدمی جو مہربان ہو اور ہر رشتہ دار بلکہ ہر مسلمان کے حق میں نرم دل ہو۔
(۳) ایسا غریب آدمی جو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرتا ہو اور فقیرو تہی دست کے باوجود کچھ نہ کچھ صدقہ خیرات کرتا ہو۔
(۴) ۱سی طرح نبی، شہید، کم سنی میں فوت ہوجانے والا ہر بچہ اور وہ بچی جسے زندہ درگور کر دیا گیا ہو۔
نیز معلوم ہوا کہ اہل جنت کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح انتہائی نازک اور نرم ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13326
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حنان بن خارجة مجھول الحال، أخرجه الطيالسي: 2277، والبزار: 1750 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7095»