الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَهْلُ الْجَنَّةِ وَصِفَاتُهُمْ وَمِقْدَارُهُمْ بِالنِّسْبَةِ لِلْأُمَمِ الأخرى وأكلُهُمْ وَشُرْبُهُمْ وَنِكَاحُهُمْ وَلِبَاسُهُمْ باب: اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ثِيَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَتُنْسَجُ نَسْجًا أَمْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ تَعَجَّبُوا مِنْ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ ”مَا تَعَجَّبُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا“ قَالَ فَسَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قَالَ أَنَا قَالَ ”لَا بَلْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ“سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں فرمائیے کہ وہ بُنا جائے گا یا وہ جنت کے پھلوں سے ہی بنا لیا جائے گا؟ اس بدّو کے سوال سے یوں محسوس ہوا کہ لوگوں کو حیرت ہوئی ہے؟ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات سے تعجب ہو رہا ہے کہ ایک بے علم،علم والے سے ایک سوال کر رہا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے، جو اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں دریافت کر رہا تھا؟ وہ بولا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ اس لباس کو بُنا نہیں جائے گا، بلکہ وہ جنت کے پھلوں سے نکلے گا۔