الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَهْلُ الْجَنَّةِ وَصِفَاتُهُمْ وَمِقْدَارُهُمْ بِالنِّسْبَةِ لِلْأُمَمِ الأخرى وأكلُهُمْ وَشُرْبُهُمْ وَنِكَاحُهُمْ وَلِبَاسُهُمْ باب: اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ“ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلَ رِيحِ الْمِسْكِ فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضُمِّرَ“سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خدمت میں آیا اور اس نے پوچھا: اے ابوالقاسم! آپ یہ کہتے ہیں ناں کہ جنتی جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے؟ وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ چکا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو باتوں کا اقرار کر لیا تو میں ان پر غالب آ جاؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایک ایک جنتی کو کھانے پینے اور شہوت و جماع کے سلسلے میں سو سو آدمیوں کے برابر قوت دی جائے گی۔ یہ سن کر یہودی نے کہا: تو پھرجو آدمی کھاتا پیتا ہے، اسے بول و براز کی حاجت بھی پیش آتی ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی یہ حاجت اس طرح پوری ہو جائے گی کہ ان کے جسموں سے پسینہ خارج ہوگا، جس کی خوشبو کستوری جیسی ہوگی، اسی سے ان کے پیٹ ہلکے ہو جایا کریں گے۔