حدیث نمبر: 13324
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ“ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلَ رِيحِ الْمِسْكِ فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضُمِّرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خدمت میں آیا اور اس نے پوچھا: اے ابوالقاسم! آپ یہ کہتے ہیں ناں کہ جنتی جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے؟ وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ چکا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو باتوں کا اقرار کر لیا تو میں ان پر غالب آ جاؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایک ایک جنتی کو کھانے پینے اور شہوت و جماع کے سلسلے میں سو سو آدمیوں کے برابر قوت دی جائے گی۔ یہ سن کر یہودی نے کہا: تو پھرجو آدمی کھاتا پیتا ہے، اسے بول و براز کی حاجت بھی پیش آتی ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی یہ حاجت اس طرح پوری ہو جائے گی کہ ان کے جسموں سے پسینہ خارج ہوگا، جس کی خوشبو کستوری جیسی ہوگی، اسی سے ان کے پیٹ ہلکے ہو جایا کریں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري : 11478، وابن حبان: 7424، والبزار: 3522، والبيھقي: في البعث والنشور : 352، والدارمي: 2825 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19484»