الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَهْلُ الْجَنَّةِ وَصِفَاتُهُمْ وَمِقْدَارُهُمْ بِالنِّسْبَةِ لِلْأُمَمِ الأخرى وأكلُهُمْ وَشُرْبُهُمْ وَنِكَاحُهُمْ وَلِبَاسُهُمْ باب: اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالَ ”نَعَمْ وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَبُولُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَتَنَخَّمُونَ إِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ جُشَاءً وَرَشْحًا كَرَشْحِ الْمِسْكِ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ“۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا جنتی لوگ کچھ کھایا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ کھائیں گے اورپئیں گے، لیکن نہ وہ پیشاب کریں گے، نہ پائخانہ کریں گے اور نہ ان کو بلغم آئے گی، ایک ڈکار سے ان کا کھانا ہضم ہوجائے گا، ان کا پسینہ کستوری کی طرح عمدہ اور خوش بو دار ہوگا اوراللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنے لیے ان کے دل میں یوں خیال ڈال دیا جائے گا، جیسے تمہارے دل میں سانس لینے کا خیال ڈالا گیا ہے۔