حدیث نمبر: 13315
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً أَنَّ لَهُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ وَهُوَ عَلَى السَّادِسَةِ وَفَوْقَهُ السَّابِعَةُ وَإِنَّ لَهُ لَثَلَاثَمِائَةِ خَادِمٍ وَيُغْدَى عَلَيْهِ وَيُرَاحُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَمِائَةِ صَحْفَةٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ ذَهَبٍ فِي كُلِّ صَحْفَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ وَإِنَّهُ لَيَقُولُ يَا رَبِّ لَوْ أَذِنْتَ لِي لَأَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَلَسَقَيْتُهُمْ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِي شَيْءٌ وَإِنَّ لَهُ لَاثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً سِوَى أَزْوَاجِهِ مِنَ الدُّنْيَا وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُمْ لَتَأْخُذُ مَقْعَدُهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الْأَرْضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے کم مرتبے والے جنتی کے سات درجات ہوں گے، وہ چھٹے درجے پر ہو گا اور اس سے اوپر ساتواں ہوگا، اس کے تین سو خادم ہوں گے، صبح شام سونے کے تین سو برتن اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ہر برتن میں ایسا کھانا ہوگا جو دوسرے برتن میں نہیں ہوگا اور اس کا پہلا حصہ جتنا لذید ہو گا، اس کا آخری بھی اتنا ہی مزیدار ہو گا۔وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اگر تو مجھے اجازت دے اور میں اہل جنت کو کھانا پیش کروں اور مشروبات پلاؤں، اس سے میری نعمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، نیز اسے دنیا والی بیویوں کے علاوہ بہتر جنتی بیویاں ملیں گی، ان میں سے ایک ایک بیوی کے بیٹھنے کی جگہ ایک میل زمین کے برابر ہوں گی۔

وضاحت:
فوائد: … جنت میں اہل ِ جنت کے مراتب اور مختلف درجے ہوںگے، ان میں سے بعض بہت اعلیٰ درجات پر فائز ہوںگے، بعض ان سے نیچے اور بعض ان سے بھی نیچے ہوں گے، لیکن کسی کو اپنی کمی یا حقارت کا احساس نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13315
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن ھوشب، وسُكين بن عبد العزيز فيه كلام ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10945»