حدیث نمبر: 13313
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ إِنَّ أَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً“ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجہ والا جنتی ایک ہزار سال کی مسافت سے اپنے باغات، نعمتوں ، خادموں اور تختوں کودیکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ جنتی ہوگا جو ہر صبح شام کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ} (اس دن بہت سے چہرے پر رونق ہوں گے اور اپنے ربّ کا دیدار کر رہے ہوں گے۔) (سورۂ قیامہ: ۲۲،۲۳)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13313
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5317»