الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
عَدَدُ مَنْ يُدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَصِفَتُهُمْ باب: حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ“ فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ“ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: ”سَبَقَكَ عُكَاشَةُ“۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار افراد کی ایک جماعت جنت میں اس حال میں جائے گی کہ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی چادر کو سنبھالتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لے یوں دعا کی: اے اللہ! اسے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ اس کے بعد ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔