الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
عَدَدُ مَنْ يُدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَصِفَتُهُمْ باب: حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَدْخُلُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فَقَالَ رَجُلٌ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ“ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: ”سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب وکتاب کے جنت میں جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ دعا کی: یا اللہ! اس کو ان لوگوں میں شامل کر دے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: آپ میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر لے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔