الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَصِفَتُهُمْ باب: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ فِيهَا وَلَا يَتَخَمَّطُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَمَجَامِرُهُمُ الْعُلُوَّةُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں شب کے چاند کی طرح روشن ہوں گی، ان کو جنت میں نہ لعاب آئے گا، نہ وہ وہاں تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہوگا اور نہ وہ قضائے حاجت کریں گے، ان کے استعمال کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے حسن و لطافت کی بناء پر ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت میں سے نظر آ رہا ہوگا، اہل جنت کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف یا جھگڑا نہیں ہوگا۔ ان کے دل ایک دوسرے کے بغض سے یکسر پاک صاف ہوں گے گویا ان سب کا دل ایک ہوگا۔ وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیحات کریں گے۔