الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَصِفَتُهُمْ باب: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ غَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم زمانہ کے لحاظ سے سب سے آخر میں آئے ہیں، تاہم قیامت کے دن ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، بس فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں بعد میں دی گئی، ان لوگوں نے جس دن کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس سلسلے میں ہمارے تابع ہیں، (پہلا دن جمعہ ہے، جو کہ ہمارا ہے)، اس سے اگلا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔