حدیث نمبر: 13298
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ غَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم زمانہ کے لحاظ سے سب سے آخر میں آئے ہیں، تاہم قیامت کے دن ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، بس فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں بعد میں دی گئی، ان لوگوں نے جس دن کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس سلسلے میں ہمارے تابع ہیں، (پہلا دن جمعہ ہے، جو کہ ہمارا ہے)، اس سے اگلا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 855 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7692»