حدیث نمبر: 13288
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا“ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهُ تَفْجُرُ أَوْ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ“ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَحَدُ الرُّوَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے، تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا اپنی جائے پیدائش میں ہی زندگی گزار دی ہو۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو آپ کی یہ بات بتلا نہ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یاد رکھو کہ) جنت میں سو درجے ہیں،اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے ان کو تیار کر رکھا ہے، ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، وہ جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ توحید و اعتقاد اور نماز روزے کے علاوہ دوسرے اعمالِ صالحہ کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2790 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8400»