حدیث نمبر: 13287
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَيَنْظُرُ وَجْهَهَا فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمَرْأَةِ وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ: فَيَرُدُّ السَّلَامَ وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ؟ وَتَقُولُ: أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک آدمی ستر سال تک جگہ تبدیل کیے بغیر ایک مقام میں بیٹھا رہے گا، اس کے بعد اس کی بیوی اس کے پاس آکر اس کے کندھوں پرہاتھ رکھے گی، اسے اس بیوی کے رخساروں میں اپنا چہرہ نظر آئے گا، بیوی کا چہرہ آئینے سے بھی زیادہ شفاف ہوگا، اس کے جسم پر لگے ہوئے موتیوں میں سب سے کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہوگا کہ وہ مشرق و مغرب کے درمیان کا علاقہ روشن کر دے گا، وہ اپنے شوہر کو سلام کہے گی اور وہ اسے سلام کا جواب دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی: میں تمہارے لیے مزید نعمتوں میں سے ہوں، اس کے جسم پر ستر لباس ہوں گے، ان میں ہلکے سے ہلکا لباس طوبیٰ کے پہاڑ کے گل لالہ جیسا ہوگا، اس کی نظر ان تمام لباسوں کو پارکر کے اس کی پنڈلی کے گودے تک کو دیکھ رہی ہوگی، اس کے اوپرکئی تاج ہوں گے، ان تاجوں پر ٹانکا ہوا کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہو گا کہ شرق و غرب کے درمیان خلا کو روشن کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَہُمْ مَا یَشَائُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ} … جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں ملے گا، اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ (سورۂ ق: ۳۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13287
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة ولضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الترمذي: 2562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11738»