الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
صِفَة أَشْجَارِهَا وَطُبُورِهَا وَأَنْهَارِهَا باب: جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
وَلَهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا“ وَقَرَأَ {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ}۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {وَّظِلٍّ مَّمْدُوْد} (اور وہ لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے) (سورۂ واقعہ: ۳۰)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دنیا اور وما فیہا سے بڑھ کر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ} (پس جسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیاگیا تو وہ یقینا کامیاب ہوگیا اور (یاد رکھو کہ) دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ (سورۂ آل عمران: ۱۸۵)