حدیث نمبر: 13277
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ قَالَ: ”طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ وَلَمْ يَرَنِي“ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَمَا طُوبَى؟ قَالَ: ”شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے لیے طوبیٰ ہے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی واقعی جن لوگوں نے میری زیارت کی اورمجھ پر ایمان لائے ان کے لیے طوبیٰ ہے، لیکن جو لوگ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے، ان کے لیے طوبی ہے، طوبی ہے، طوبی ہے۔ اس آدمی نے کہا: بھلا طوبیٰ ہے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک درخت کا نام ہے اور یہ سو سال کی مسافت جتنا ہے، اس کی کلیوں کے غلافوں سے جنتی لوگوں کا لباس تیار کیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13277
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، دراج يضعف في روايته عن ابي الھيثم، وقوله: طوبي لمن رآني و آمن بي، وطوبي لمن آمن بي ولم يرني حسن لغيره، أخرجه ابن حبان:7230، 7413، وابويعلي: 1374 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11696»