حدیث نمبر: 13268
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْلَى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا وَلَنَصِيفُ امْرَأَةِ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا“ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا النَّصِيفُ؟ قَالَ: الْخِمَارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دوگنا دنیا سے بہتر ہے، جنت میں تمہاری کمان کے برابر جگہ دو گنا دنیا سے بہتر ہے اور جنت کی ایک خاتون کا دوپٹہ دو گنا دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔ ابو ایوب کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوہریرہ! النَّصِیْف کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: دو پٹہ۔

وضاحت:
فوائد: … دنیا اور جنت کی نعمتوں میں صرف نام کی مماثلت ہے، مثال کے طور پر دنیا میں پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہتے ہیں اور جنت میں بھی پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہیں گے، لیکن اُس سیب کی حقیقت کا ادراک جنت میں پہنچنے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13268
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10275»