حدیث نمبر: 13263
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَخَرَجَ يَمْشِي إِلَى الْقُبُورِ حَتَّى إِذَا أَتَى إِلَى أَدْنَاهَا جَلَسَ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ إِنْسَانًا جَالِسًا يَبْكِي قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ فَأَذِنَ لِي فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي فَأَسْتَغْفِرَ لَهَا فَأَبَى إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تَمَسَّكُوا بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَزُرْ فَقَدْ أَذِنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ وَعَنِ الظُّرُوفِ تَشْرَبُونَ فِيهَا الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ وَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ فَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہو کر قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی قریب والی طرف میں جا کر بیٹھ گئے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کسی انسان کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، جبکہ آپ رو بھی رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی تو اجازت دے دی، لیکن جب میں نے اس سے والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی، تو اس نے اس کی اجازت نہیں دی، میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک یہ کہ تم تین دنوں کے بعد قربانیوں کے گوشت نہیں کھا سکتے، اب تمہیں اجازت ہے جب تک چاہو کھا سکتے ہو، دوسرا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب جو آدمی قبرستان جانا چاہے، جا سکتا ہے، مجھے بھی اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے،ہاں جو آدمی قبرستان نہ جانا چاہتا ہو، وہ بے شک نہ جائے، اور تیسرا کہ میں نے تمہیں کدو، سبز مٹکے اور تارکول لگے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا تھا اور باقی برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اب یہ حکم ہے کہ برتن تو کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، لہذا تم سارے برتن استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13263
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 977 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23426»