حدیث نمبر: 13257
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يُدْرِكِ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ قَالَ ”أَوَغَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے تو خوشخبری ہے،یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ گناہ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کوئی اور بات بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جنت کے لیے اور جنت کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا، جب کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور اس نے لوگوں کو جہنم کے لیے اور جہنم کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا جبکہ یہ لوگ ابھی تک اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے، لیکن تعیین کے ساتھ کسی بچے کو جنتی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ پہلے یہ بات ثابت کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے والدین کا اسلام کیسا ہے، وہ قبول بھی ہے یا نہیں، یا ان کا انجام کیا ہو گا؟ اور اس چیز کا علم آخرت میں ہو گا۔
یہ الگ بات ہے کہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن تو یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر ہو گی، لیکن شرعی قوانین کی بات اور ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13257
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26261»