حدیث نمبر: 13255
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَرِيعٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدٍ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ قَالَ فَتَنَاوَلَ قَوْمٌ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَ مَا قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ حَتَّى تَنَاوَلُوا الذُّرِّيَّةَ“ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ أَبْنَاءَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ إِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ يُنَصِّرَانِهَا“ قَالَ وَأَخْفَاهَا الْحَسَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ ، یہ قبیلہ بنو سعد کے فرد تھے اور انہوں نے سب سے پہلے مسجد جامع وعظ شروع کیا تھا، ان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چار غزووں میں شرکت کی، ایک دفعہ مسلمانوں نے لڑنے والے مخالفین کو قتل کرنے کے بعد ان کے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر دیا، لیکن جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پہلے لڑنے والوں کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ بھی ان مشرکوں کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بیٹے ہیں، بات یہ ہے کہ ہر روح جب پیدا ہوتی ہے تو وہ دین ِ فطرت پر ہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی پر برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ حسن نے آخری الفاظ کی ادائیگی پست آواز سے کی۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ دین فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، جب وہ بولنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یامجوسی بنا دیتے ہیں، مشرکوں کا نابالغ بچہ بھی ان احادیث کا مصداق بن رہا ہے، لیکن اس میں تفصیل ہے، سابقہ باب کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13255
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري رغم تصريحه بالسماع ھنا من الاسواد بن سريع، الا ان الصحيح انه لم يسمع منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16412»