حدیث نمبر: 13248
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى غُطَيْفٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَنِ الرَّجُلُ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى غُطَيْفِ بْنِ عَازِبٍ فَقَالَتْ ابْنُ عَفِيفٍ فَقَالَ نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَرَكَعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ نَعَمْ وَسَأَلَهَا عَنْ ذَرَارِيِّ الْكُفَّارِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِلَا عَمَلٍ قَالَ ”اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مولائے غطیب عبد اللہ بن ابی قیس، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کو سلام کہا، انھوں نے پوچھا: کون ہے؟ اس نے بتایا: جی میں غطیف بن عازب کا غلام عبد اللہ ہوں، انھوں نے کہا: جو عفیف کے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے ام المومنین! پھر اس نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ آیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر اس نے کافروں کی اولادکا حکم دریافت کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ: وہ آخرت میں اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے۔ میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ عمل کے بغیر ہی اپنے آباء کے ساتھ (برے انجام میں شریک ہوں گے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4712 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25052»