الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَولادُ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْكَافِرِينَ باب: وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا فِي النَّارِ“ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ ”لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ ”فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ“ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} [الطور: 21]سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے انجام کے بارے میں پوچھا جو دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائیں گے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس کیے تو فرمایا: اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھ لو تو تم بھی ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے، اس کا انجام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی، بیشک اہل ِ ایمان اور ان کی اولادیں جنت میں جائیں گی اور مشرکین اور ان کی اولادیں جہنم میں جائیں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُم} (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں)ان سے ملا دیں گے۔) (سورۂ طور: ۲۱)