حدیث نمبر: 13242
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُكِبِّينَ يَبْكُونَ فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ فَيُخْبِرُهُ فَيَقُولُ ائْتِنِي بِهِ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ لَهُ يَا عَبْدِي كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرَّ مَكَانٍ وَشَرَّ مَقِيلٍ فَيَقُولُ رُدُّوا عَبْدِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تَرُدَّنِي فِيهَا فَيَقُولُ دَعُوا عَبْدِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بندہ جہنم میں ایک ہزار سال تک ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ!، بالآخراللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ اورمیرے اس بندے کو میرے پاس لے آؤ، جب وہ وہاں جا کر دیکھیں گے کہ جہنمی تو منہ کے بل پڑے رو رہے ہوں گے، وہ واپس آجائیں گے اور آ کر اللہ تعالیٰ کو یہ صورتحال بتائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں جگہ میں پڑے ہوئے میرے بندے کو لے آؤ، پس وہ اسے لا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے میرے بندے! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! بہت بری جگہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتو! میرے بندے کو وہیں واپس لے جاؤ، وہ عرض کرے گا : اے میرے ربّ! مجھے تو یہ امید نہیں تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال لے گا تو دوبارہ اس میں بھیج دے گا، یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو چھوڑ دو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13242
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ابو ظلال ھلال بن ابي ھلال القسملي مجمع علي ضعفه، أخرجه ابويعلي: 4210، والبيھقي في الاسماء والصفات : ص 84، وابن خزيمة في التوحيد : 2/ 749 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13444»