حدیث نمبر: 13239
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ وَجَدْتُّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُّهَا مَلْأَى ثَلَاثًا فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا قَالَ: فَيَقُولُ: رَبِّ أَتَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے آخر میں جنت میں جانے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا آدمی وہ ہے جو گھسٹتا ہوا جہنم سے نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں چلا جا۔ وہ وہاں آکر یوں محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! یہ تو ساری بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا جنت میں داخل ہوجا، وہ اسے پہلے کی طرح بھری ہوئی سمجھ کر واپس آجائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! وہ تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن وہ آکر پھر یہی محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے رب! جنت تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا، تیرے لیے جنت میں پوری دنیا بلکہ اس سے دس گنا زیادہ جگہ موجود ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو تو بادشاہ ہے۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم تر جنتی ہو گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13239
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4391»