حدیث نمبر: 13234
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ“ قَالَ عَفَّانٌ: أَحَدُ الرُّوَاةِ: ”مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … انسان کے اندر اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ دنیا میں پائی جانے والی آگ کا ایک انگارہ اپنے ہاتھ پر رکھ سکے، لیکن اس آگ سے انہتر گنا زیادہ آگ کا کیا بنے گا۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 3502، والحاكم: 4/ 581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11116»