الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
طَعَامُ أَهْلِ النَّارِ وَشَرَابُهُمْ وَصِفَةٌ عَذَابِهِمْ وَتَفَاوُتُهُمْ فِي ذَلِكَ باب: اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ“ قَالَ عَفَّانٌ: أَحَدُ الرُّوَاةِ: ”مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ“سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔