حدیث نمبر: 13229
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ كَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … زقوم: ایک کڑوا اور بد بودار درخت، جس کا پھل اہل دوزخ کی غذا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13229
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 5285، وابن ماجه: 4325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2735»